پیر, مارچ 16, 2026
الرئيسيةجوہری معاہدے کی بحالی: ایران سمجھوتے کے لیے تیار، گیند اب امریکہ...

جوہری معاہدے کی بحالی: ایران سمجھوتے کے لیے تیار، گیند اب امریکہ کے کورٹ میں ہے، نائب وزیر خارجہ

ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے کہا ہے کہ تہران جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے سمجھوتے کی بنیاد پر بات چیت کرنے کے لیے تیار ہے۔ تہران میں بی بی سی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ ایران سفارتی حل کے لیے سنجیدہ ہے، تاہم اب یہ امریکہ پر منحصر ہے کہ وہ اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی آمادگی ثابت کرے۔

مذاکرات کی کامیابی کا دارومدار امریکہ پر ہے

بی بی سی کی نمائندہ لیس ڈوسیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے مجید تخت روانچی کا کہنا تھا کہ "گیند اب امریکہ کے کورٹ میں ہے”۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ واشنگٹن کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ واقعی کسی نتیجے پر پہنچنے اور معاہدے کو منطقی انجام تک پہنچانے کا خواہشمند ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کے مطابق، تہران نے ہمیشہ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے ہیں اور وہ باہمی مفادات پر مبنی کسی بھی سمجھوتے کے لیے تیار ہے۔

سفارتی تعطل اور مستقبل کی حکمت عملی

نائب وزیر خارجہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر طویل عرصے سے تعطل برقرار ہے۔ ماہرین اس بیان کو تہران کی جانب سے لچک دکھانے کے اشارے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ مجید تخت روانچی نے واضح کیا کہ اگر امریکہ اپنی پالیسیوں میں سنجیدگی دکھائے اور سابقہ وعدوں کی پاسداری کرے، تو ایک پائیدار معاہدے تک پہنچنا ناممکن نہیں ہے۔

علاقائی استحکام اور عالمی اثرات

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے سمجھوتے کی پیشکش خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو پرامن مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا حق رکھتا ہے، لیکن عالمی پابندیوں کے خاتمے اور معاشی استحکام کے لیے وہ عالمی برادری کے ساتھ تعمیری بات چیت کا حامی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بائیڈن انتظامیہ ایران کی اس پیشکش پر کیا ردعمل ظاہر کرتی ہے۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں