پیر, مارچ 16, 2026
الرئيسيةجنیوا میں روس-یوکرین مذاکرات پر ڈرون حملوں کے گہرے سائے، مشکلات کا...

جنیوا میں روس-یوکرین مذاکرات پر ڈرون حملوں کے گہرے سائے، مشکلات کا امکان

جنیوا میں آئندہ ہفتے ہونے والے روس اور یوکرین کے درمیان امریکی ثالثی میں ہونے والے اہم مذاکرات پر حالیہ مہلک ڈرون حملوں کے گہرے سائے چھا گئے ہیں۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ان مذاکرات میں مشکلات کا اشارہ دیا ہے، جس سے امن کی کوششوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

مذاکرات میں متوقع مشکلات

صدر زیلنسکی نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ روس کی جانب سے جاری ڈرون حملے امن مذاکرات کے لیے سازگار ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حملوں کی موجودگی میں کسی بھی بامعنی پیش رفت کی توقع کرنا مشکل ہے۔ زیلنسکی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ روس پر دباؤ ڈالے تاکہ ڈرون حملوں کو روکا جا سکے اور مذاکرات کے لیے ایک مثبت فضا قائم ہو سکے۔

دوسری جانب، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی جنیوا مذاکرات کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں میں اضافہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کی فضا کو مزید خراب کر رہا ہے اور یہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔ روبیو نے زور دیا کہ امریکہ ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے، لیکن فریقین کو بھی مذاکرات کی کامیابی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈرون حملوں کی شدت

یاد رہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران یوکرین کے مختلف شہروں پر روس کی جانب سے مہلک ڈرون حملوں میں شدت آئی ہے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ ان حملوں نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور امن کی کوششوں کو دھچکا پہنچایا ہے۔ یوکرین کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے روس کی جانب سے مذاکرات سے قبل دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

آئندہ مذاکرات کا چیلنج

جنیوا میں ہونے والے یہ مذاکرات روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کے حل کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم سمجھے جا رہے ہیں، تاہم حالیہ صورتحال نے ان کی افادیت اور کامیابی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ امریکی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات کو اب کشیدہ ماحول میں اعتماد سازی کی ایک بڑی آزمائش کا سامنا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں مذاکرات کا ایجنڈا متاثر ہو سکتا ہے اور فریقین کے درمیان کسی بھی قسم کے اتفاق رائے تک پہنچنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں