ملک بھر میں جنوری کے مہینے میں گھروں کی فروخت میں 8 فیصد سے زائد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد رئیل اسٹیٹ سیکٹر نے ایک ‘نئے ہاؤسنگ بحران’ کے سر اٹھانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ یہ اعداد و شمار پراپرٹی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، گھروں کی فروخت میں یہ کمی توقع سے کہیں زیادہ رہی ہے، حالانکہ رہن کی شرح سود (مارگیج ریٹس) میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی اور وہ نسبتاً مستحکم رہیں۔ اس غیر متوقع گراوٹ کی ایک بڑی وجہ صارفین کے اعتماد میں نمایاں کمی کو قرار دیا جا رہا ہے، جس نے ممکنہ خریداروں کو سرمایہ کاری سے گریز کرنے پر مجبور کیا ہے۔
بحران کی وجوہات اور ماہرین کا تجزیہ
رئیل اسٹیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ صارفین کے اعتماد میں کمی، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی غیر یقینی صورتحال نے رہائشی یونٹس کی خرید و فروخت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ جنوری کے اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ممکنہ خریدار فی الحال مارکیٹ میں داخل ہونے سے ہچکچا رہے ہیں، جس سے پراپرٹی سیکٹر پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو یہ نہ صرف رئیل اسٹیٹ سیکٹر بلکہ مجموعی معیشت کے لیے بھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
بلڈرز اور ڈویلپرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لے اور ہاؤسنگ سیکٹر کو سہارا دینے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہاؤسنگ سیکٹر کا بحران ملک کی معاشی ترقی کو سست کر سکتا ہے اور روزگار کے مواقع پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ آنے والے مہینوں میں گھروں کی فروخت کے اعداد و شمار پر گہری نظر رکھی جائے گی تاکہ اس بحران کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکے۔

