امریکہ اور تائیوان کے درمیان ایک اہم تجارتی معاہدے کے تحت، تائیوان کی چپ اور ٹیکنالوجی کمپنیاں امریکہ میں سیمی کنڈکٹر سازی کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے کم از کم 250 ارب ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری کریں گی۔ یہ معاہدہ امریکہ کی "امریکہ فرسٹ” پالیسی کو فروغ دینے اور ملکی سطح پر سیمی کنڈکٹر کی پیداوار کو مضبوط بنانے کے وسیع تر ہدف کا حصہ ہے۔
معاہدے کی تفصیلات
اس معاہدے کے تحت، تائیوان کی معروف چپ ساز کمپنیاں امریکہ میں اپنی پیداواری صلاحیتوں کو وسعت دینے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کرنے کی پابند ہوں گی۔ اس اقدام کا مقصد امریکہ کو سیمی کنڈکٹر کی سپلائی چین میں خود انحصاری کی طرف لے جانا ہے، جو کہ عالمی سطح پر اس نازک ٹیکنالوجی کی اہمیت کے پیش نظر ایک اسٹریٹیجک قدم ہے۔ یہ سرمایہ کاری نہ صرف نئی فیکٹریاں قائم کرنے اور موجودہ سہولیات کو اپ گریڈ کرنے میں مدد دے گی بلکہ ہزاروں نئی ملازمتیں بھی پیدا کرے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا اور عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں امریکہ کے اثر و رسوخ کو بڑھائے گا۔ اس کے علاوہ، یہ چین کے بڑھتے ہوئے سیمی کنڈکٹر اثر و رسوخ کے خلاف ایک تزویراتی ردعمل کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

