منگل, مارچ 10, 2026
الرئيسيةبی بی سی کی تحقیق: مردوں نے خواتین کی رات کے وقت...

بی بی سی کی تحقیق: مردوں نے خواتین کی رات کے وقت خفیہ ویڈیوز بنائی اور منافع کمایا

بی بی سی نے ایک خفیہ تحقیق کے ذریعے ایک ایسے منڈی کی نشاندہی کی ہے جہاں مرد افراد خواتین کو رات کے وقت بغیر ان کی علم کے ریکارڈ کرتے ہیں اور اس مواد سے مالی فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ اس تحقیق کے دوران تقریباً پچاس خواتین تک پہنچنے میں کامیابی حاصل ہوئی، جن میں سے اکثر کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ ان کی ویڈیو بنائی گئی ہے۔

تحقیقی رپورٹ کی تفصیلات

تحقیق کاروں نے سوشل میڈیا اور مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر سرگرم رہنے والے چند "انفلوئنسرز” کی شناخت کی، جو خواتین کو "پکڑنے” کے طریقے پر مشورے دیتے ہیں۔ یہ انفلوئنسرز اکثر میٹا (Meta) کے ایپلیکیشنز کے ذریعے خفیہ طور پر ویڈیوز ریکارڈ کرتے ہیں۔ حاصل شدہ شواہد سے واضح ہوا کہ زیادہ تر ویڈیوز بغیر کسی واضح اجازت کے بنائی جاتی ہیں اور بعد میں سوشل میڈیا پر شیئر کی جاتی ہیں۔

متاثرہ خواتین کے بیانات

ان خواتین نے اپنی خوف اور اضطراب کا اظہار کیا۔ کئی خواتین نے بتایا کہ انہیں اپنی ذاتی زندگی میں غیر متوقع طور پر مداخلت کا سامنا کرنا پڑا اور وہ اس واقعے کے بعد اپنی حفاظت کے بارے میں شدید فکرمند ہیں۔ بعض نے یہ بھی کہا کہ انہیں اس ویڈیو کے پھیلاؤ کے بعد معاشرتی دباؤ اور بدنامی کا سامنا کرنا پڑا۔

قانونی کارروائی اور گرفتاری

تحقیق کے نتیجے میں ایک مرد کو گرفتار کیا گیا ہے جس پر شب کے وقت خواتین کی ویڈیو بنانا اور اسے سوشل میڈیا پر شائع کرنا الزام عائد کیا گیا ہے۔ پولیس نے اس کیس کی مزید تفتیش جاری رکھی ہے اور اس طرح کے غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف سخت اقدامات کا وعدہ کیا ہے۔

حکومت اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ذمہ داری

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے حکومتی اداروں اور سوشل میڈیا کمپنیوں کو مل کر واضح پالیسیز اور سخت نگرانی کے نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے آگاہی مہمات بھی ضروری ہیں تاکہ خواتین اپنی پرائیویسی کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات کر سکیں۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں