عالمی ٹیکنالوجی کمپنی ایمازون نے بیوروکریسی کو کم کرنے کی اپنی تازہ ترین کوششوں کے تحت تقریباً 16 ہزار کارپوریٹ ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدام کمپنی کی جانب سے بڑے پیمانے پر تنظیم نو (Restructuring) اور اخراجات میں کمی کی کوششوں کا حصہ ہے۔
اہم پیش رفت اور کٹوتیوں کا دوسرا مرحلہ
ایمازون میں بڑے پیمانے پر برطرفیوں کا یہ دوسرا مرحلہ ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر میں بھی کمپنی نے تقریباً 14 ہزار ملازمین کو فارغ کیا تھا۔ ان تازہ ترین کٹوتیوں کے بعد، ایمازون کی کارپوریٹ افرادی قوت میں مجموعی طور پر تقریباً 30 ہزار ملازمین کی کمی واقع ہو چکی ہے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات کارکردگی کو بہتر بنانے اور غیر ضروری انتظامی ڈھانچے کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔
ایمازون کے اعلیٰ حکام نے بدھ کے روز تصدیق کی کہ یہ برطرفیاں کمپنی کی وسیع پیمانے پر تنظیم نو کی کوششوں کا حصہ ہیں، جس کا مقصد انتظامی ڈھانچے کو مزید مؤثر اور تیز رفتار بنانا ہے۔ یہ کٹوتیاں ٹیکنالوجی سیکٹر میں جاری معاشی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں کی گئی ہیں۔
اندرونی خدشات اور ملازمین کا ردعمل
ایک ہزار سے زائد ایمازون ملازمین نے ایک کھلے خط میں کمپنی کی تیز رفتار اور "ہر قیمت پر” مصنوعی ذہانت (AI) کو متعارف کرانے کی حکمت عملی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ملازمین نے خبردار کیا ہے کہ کمپنی کا یہ جارحانہ اقدام نہ صرف جمہوریت اور روزگار کو نقصان پہنچا سکتا ہے بلکہ اس سے کمپنی کے اندرونی ڈھانچے پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
ملازمین کی جانب سے یہ خدشات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب کمپنی بڑے پیمانے پر افرادی قوت میں کمی کر رہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنے تکنیکی ڈھانچے کو مصنوعی ذہانت پر منتقل کرنے کی کوششوں میں تیزی لا رہی ہے۔

