منگل, جنوری 27, 2026
الرئيسيةبھارت کی بڑی کمپنیوں کو جیوپولیٹیکل کشیدگی اور گھریلو سست روی کا...

بھارت کی بڑی کمپنیوں کو جیوپولیٹیکل کشیدگی اور گھریلو سست روی کا سامنا

بھارت کی سب سے بڑی کارپوریٹ ادارے، جن میں ریٹیل اور آئی ٹی سیکٹر کے نمایاں نام شامل ہیں، موجودہ جیوپولیٹیکل تناؤ کے ساتھ ساتھ گھریلو مارکیٹ کی سست روی کو سب سے بڑا چیلنج مان رہے ہیں۔

ریٹیل سیکٹر کی سست روی اور بروکریج کی پیش گوئی

حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، ریٹیل کاروبار میں فروخت کی رفتار کمزور ہوئی ہے جس کے باعث متعدد بروکریج فرموں نے ان کے ہدف قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صارفین کے اخراجات میں کمی اور مہنگائی کے دباؤ نے اس سست روی کو بڑھاوا دیا ہے۔

جیوپولیٹیکل عدم استحکام: مستقبل کا سب سے بڑا خطرہ

ایک وسیع پیمانے پر کیے گئے سروے میں تقریباً پچاس فیصد سی ایکس اوز نے جیوپولیٹیکل عدم استحکام کو بھارت کی کارپوریٹ دنیا کے لیے سب سے سنگین خطرے کے طور پر شناخت کیا۔ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے ادانی گروپ کے بدعنوانی کے کیس کی رپورٹ نے اس خطرے کو مزید واضح کر دیا ہے، جس سے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔

آئی ٹی سیکٹر کی کمزور کارکردگی

بھارت کے آئی ٹی دیو ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس)، انفوسس اور ایچ سی ایل کی تیسری سہ ماہی کی آمدنی میں صرف 4 سے 5 فیصد سال بہ سال اضافہ متوقع ہے۔ بروکریج فرموں کے مطابق، عالمی معیشت کی سست روی اور جیوپولیٹیکل عدم استحکام نے ان کمپنیوں کی برآمدات اور نئی معاہدوں پر منفی اثر ڈالا ہے۔

سیاست اور عدالتی مقدمہ کا اثر

بھارت کی سیاسی فضاء میں بڑھتی ہوئی مقابلہ آرائی، خاص طور پر بی جے پی اور کانگریس کے درمیان، نے ادانی بدعنوانی کے کیس کو عوامی بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے اس کیس کی رپورٹ نے نہ صرف سیاسی کشیدگی کو بڑھایا ہے بلکہ ملکی کاروباری ماحول پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے۔

مجموعی طور پر، جیوپولیٹیکل خطرات اور گھریلو مارکیٹ کی سست روی نے بھارت کی بڑی کمپنیوں کے لیے مستقبل کے سالوں میں اہم چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ سرمایہ کاروں اور تجزیہ کاروں کی توجہ اب ان خطرات کے ممکنہ اثرات اور ان کے تدارک کے لیے حکمت عملیوں پر مرکوز ہے۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں