امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی حمایت کے باوجود، ڈیجیٹل کرنسی بِٹ کوائن نے اپنی قیمت میں نمایاں کمی کی اور اس کی قدر اس وقت کی سب سے نچلی سطح پر آ گئی جب سے ٹرمپ نے عہدہ سنبھالا ہے۔
مارکیٹ کی موجودہ صورتحال
بِٹ کوائن کی قیمت 24 اکتوبر کے روز تقریباً 6,200 امریکی ڈالر تک گر گئی، جو کہ جنوری 2017 کے بعد سے اس کی کم ترین سطح ہے۔ اس کمی کے ساتھ ہی دیگر کریپٹو کرنسیوں کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی، جس سے عالمی مالیاتی مارکیٹ میں اضطراب بڑھ گیا۔
ٹرمپ کی حمایت اور اس کے اثرات
صدر ٹرمپ نے متعدد مواقع پر بٹ کوائن اور دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں کے حق میں بیانات دیے، اور اس کے استعمال کو مالیاتی نظام کی جدت کے طور پر سراہا۔ تاہم، ان بیانات کے باوجود سرمایہ کاروں کے جذبات پر منفی اثرات مرتب ہوئے اور خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں کمی آئی۔
ماہرین کی رائے
مالیاتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن کی قیمت میں اس کمی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں، جن میں امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ، عالمی تجارتی کشیدگی اور ریگولیٹری عدم یقینی شامل ہیں۔ بعض ماہرین نے یہ بھی اشارہ کیا کہ ٹرمپ کی پالیسیوں میں تبدیلیاں اور ممکنہ ٹیکس ریگولیشنز کریپٹو مارکیٹ پر دباؤ ڈال سکتی ہیں۔
آئندہ پیشگوئی
تجزیہ کاروں کے مطابق بٹ کوائن کی قیمت کے مزید اتار چڑھاؤ کا امکان برقرار ہے۔ اگر امریکی مالیاتی پالیسیوں میں استحکام آتا ہے تو قیمت میں بحالی کے اشارے دکھائی دے سکتے ہیں، لیکن ریگولیٹری اقدامات اور عالمی اقتصادی عدم استحکام کے باعث مزید کمی بھی ممکن ہے۔

