برطانیہ کے تحقیق اور جدت کے ادارے (UKRI) نے اعلان کیا ہے کہ اس کے £8 ارب کے تحقیقاتی فنڈ میں نئی گرانٹس کا اجراء عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے پسِ منظر میں حکومت کی جانب سے دی گئی ہدایت شامل ہے کہ ادارے کو "کم لیکن بہتر” کام پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔
حکومتی ہدایت اور ادارے کا ردعمل
UKRI کے سربراہ ایان چیپمین نے بتایا کہ حکومت نے واضح طور پر ہدایت دی ہے کہ فنڈ کو محدود وسائل کے ساتھ زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کیا جائے۔ اس تناظر میں ادارے کو اپنی ترجیحات کا دوبارہ جائزہ لینا اور غیر ضروری سرگرمیوں کو روکنا لازمی سمجھا گیا ہے۔
ملازمین اور مقامی کاروباری مشیروں پر اثرات
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، اس اقدام کے نتیجے میں مقامی کاروباری مشیروں کی بڑی تعداد کو برطرف کیا گیا ہے۔ باقی رہ جانے والے مشیروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کسی نئے "کلائنٹ”—یعنی سائنسی یا تحقیقاتی منصوبے—کو قبول نہ کریں۔ اس سے تحقیقاتی شعبے کی معاونت اور تعاون کے نظام پر گہرا اثر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
آئندہ کے لیے متوقع اقدامات
UKRI نے اشارہ کیا ہے کہ فنڈ کے موجودہ وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے کے لیے سخت ترجیحی معیار اپنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی، نئی گرانٹس کے دوبارہ آغاز کا فیصلہ مستقبل میں حکومتی مالیاتی پالیسی اور تحقیقاتی ترجیحات کے دوبارہ جائزے کے بعد کیا جائے گا۔
نتیجہ
برطانیہ کے تحقیقاتی فنڈ کی اس عارضی روک کا مقصد محدود وسائل کے ساتھ تحقیق کی کارکردگی کو بڑھانا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی سائنسی کمیونٹی اور معاون اداروں پر فوری اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ آئندہ ہفتوں میں اس فیصلے کے مزید تفصیلات اور ممکنہ اصلاحاتی اقدامات سامنے آنے کی توقع ہے۔

