سوشل میڈیا پر ان دنوں مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ایسی ویڈیوز کی بھرمار ہے جن میں برطانیہ کے شہری علاقوں کو زوال پذیر اور بدحالی کا شکار دکھایا گیا ہے۔ ان ڈیپ فیک ویڈیوز میں خاص طور پر ایسے واٹر پارکس کی منظر کشی کی گئی ہے جو بظاہر عوامی ٹیکسوں سے تعمیر کیے گئے ہیں، لیکن حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ یہ مواد اس قدر مہارت سے تیار کیا گیا ہے کہ پہلی نظر میں اسے پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے یہ تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔
ڈیپ فیک ویڈیوز اور سماجی اثرات
ان ویڈیوز میں دکھائے گئے مناظر انتہائی بھیانک اور غلیظ ہیں، جن کا مقصد یہ تاثر دینا ہے کہ برطانیہ کے بنیادی ڈھانچے کی حالت زار ابتر ہو چکی ہے۔ ان ویڈیوز کے وائرل ہونے کے بعد نہ صرف عوامی سطح پر تشویش پیدا ہوئی ہے بلکہ ان کے نیچے کیے جانے والے تبصروں میں نسلی تعصب اور نفرت انگیز بیانیے کا بھی مشاہدہ کیا گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کا مواد مخصوص سیاسی ایجنڈے کے تحت پھیلایا جا رہا ہے تاکہ معاشرے میں تقسیم پیدا کی جا سکے اور تارکینِ وطن یا مخصوص گروہوں کے خلاف جذبات کو ابھارا جا سکے۔
غلط معلومات کا پھیلاؤ اور ٹیکنالوجی کا چیلنج
ٹیکنالوجی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ یہ مواد اس قدر حقیقت کے قریب ہے کہ عام شہری اسے سچ سمجھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس رجحان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی پالیسیوں پر بھی سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں، کیونکہ یہ ویڈیوز تیزی سے شیئر ہو رہی ہیں اور معاشرے میں غلط فہمیاں پیدا کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، ڈیپ فیکس کا یہ استعمال مستقبل میں عوامی رائے عامہ کو متاثر کرنے کا ایک خطرناک ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے، جس کے تدارک کے لیے سخت قوانین اور بہتر نگرانی کی ضرورت ہے۔

