برطانیہ نے ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے لیے اپنے فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چاغوس جزائر کو امریکہ کے حوالے کرنے کے بارے میں برطانوی اپوزیشن لیڈر سر کیر اسٹارمر کے معاہدے پر تنقید کی ہے۔
برطانوی موقف
برطانوی حکومت کے ذرائع کے مطابق، ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر، امریکہ نے برطانیہ سے اپنے فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت طلب کی تھی تاکہ ممکنہ طور پر ایران کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ تاہم، برطانوی حکام نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اس معاملے میں براہ راست شامل نہیں ہونا چاہتے اور نہ ہی اپنے اڈوں کو ایسے کسی بھی اقدام کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دیں گے۔
امریکی صدر کی تنقید
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی اپوزیشن لیڈر سر کیر اسٹارمر کے چاغوس جزائر کے حوالے سے کیے گئے معاہدے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق، یہ معاہدہ برطانوی مفادات کے خلاف ہے اور اس سے امریکہ کو فائدہ پہنچے گا۔ اس بیان بازی نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت کا یہ فیصلہ ایران کے ساتھ براہ راست تصادم سے بچنے کی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ اقدام برطانوی پارلیمنٹ اور عوام میں ایران کے معاملے پر پائی جانے والی تحفظات کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

