برطانیہ کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے امکان پر مشاورت کا عمل شروع کرے گی۔ اس اقدام کے تحت حکام نے اسکولوں کو “ڈیفالٹ طور پر فون‑فری” بنانے کی توقع ظاہر کی ہے۔
حکومت کا اقدام اور اس کے مقاصد
وزیران نے بتایا کہ فوری کارروائی سے اوفسٹیڈ (Ofsted) کو تعلیمی اداروں کی نگرانی میں سہولت ملے گی اور بچوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات کم ہوں گے۔ مشاورت کے ذریعے یہ جانچنے کا ارادہ ہے کہ سوشل میڈیا پر پابندی کے ذریعے نوجوانوں کی ذہنی بہبود اور تعلیمی کارکردگی میں کس حد تک بہتری آ سکتی ہے۔
آسٹریلیا کا دورہ
برطانیہ کے وزیروں کا ایک وفد اگلے ہفتے آسٹریلیا کا دورہ کرے گا تاکہ وہاں پچھلے ماہ نافذ کردہ 16 سال سے کم عمر کے لیے سوشل میڈیا پابندی کے تجربات سے معلومات حاصل کی جا سکیں۔ اس دورے کے دوران حکام مقامی حکومتی عہدیداران اور تعلیمی ماہرین سے ملاقاتیں کریں گے اور اس پالیسی کے عملی اثرات پر تبادلہ خیال کریں گے۔
مشاورت کا دائرہ کار
حکومت نے واضح کیا ہے کہ مشاورت میں والدین، اسکولوں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور ماہرینِ نفسیات کو شامل کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی اس بات پر بھی غور کیا جائے گا کہ پابندی کے نفاذ کے لیے قانونی اور تکنیکی ڈھانچے کیسے تیار کیے جائیں گے۔
حکومت کا یہ قدم اس وقت سامنے آیا ہے جب سوشل میڈیا کے ذہنی صحت پر منفی اثرات کے بارے میں عالمی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ مشاورت کے نتائج کے بعد آئندہ چند ماہ میں پالیسی کی حتمی شکل متعین کی جائے گی۔

