برطانیہ میں مہمان نوازی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے کاروباری مالکان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تعطیلات پر لگائے جانے والے مجوزہ نئے ٹیکس کو فوری طور پر ختم کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ نیا ٹیکس ملکی سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبے کو شدید نقصان پہنچائے گا اور خاندانوں کو اپنے تعطیلات کے دورانیے کو کم کرنے یا اپنا خرچ بیرون ملک منتقل کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
ٹیکس کے ممکنہ اثرات
متحدہ بادشاہت کے مختلف سیاحتی اور مہمان نوازی کے نمائندوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ مجوزہ ٹیکس، جو سیاحوں کے قیام پر عائد کیا جائے گا، مقامی معیشت پر منفی اثرات مرتب کرے گا۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایسے اقدامات سے نہ صرف مقامی سیاحوں کی حوصلہ شکنی ہوگی بلکہ بین الاقوامی سیاح بھی برطانیہ کا رخ کرنے سے گریز کریں گے۔ یہ ٹیکس خاص طور پر ان خاندانوں کے لیے بوجھ بنے گا جو محدود بجٹ میں سفر کرتے ہیں، اور انہیں اپنی تعطیلات مختصر کرنے یا سستے متبادل تلاش کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
مہمان نوازی کے شعبے کے مالکان کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکس ایسے وقت میں تجویز کیا گیا ہے جب یہ شعبہ پہلے ہی کووڈ-19 وبائی امراض اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اضافی مالی بوجھ سے ہوٹلوں، ریستورانوں اور دیگر سیاحتی کاروباروں کے لیے بقا مشکل ہو جائے گی، جس کے نتیجے میں ملازمتوں کے خاتمے کا خدشہ بھی ہے۔
حکومت سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس مجوزہ ٹیکس کے بجائے ایسے اقدامات پر غور کرے جو سیاحت کو فروغ دیں اور مقامی کاروباروں کو سہارا دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو ایک پرکشش سیاحتی مقام کے طور پر برقرار رکھنے کے لیے پالیسیوں میں نرمی اور مددگار اقدامات کی ضرورت ہے۔

