برطانیہ میں بے روزگاری کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو گزشتہ پانچ سالوں کے دوران بلند ترین سطح ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، یہ شرح کورونا وائرس کی عالمی وبا کے بعد سے اب تک کی سب سے زیادہ سطح پر پہنچ چکی ہے، جس نے ملکی معیشت اور لیبر مارکیٹ کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کی تفصیلات
برطانوی دفتر برائے قومی شماریات (او این ایس) کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں بے روزگاری کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ معاشی سست روی اور بلند شرح سود کی وجہ سے کاروباری اداروں کے لیے نئی بھرتیاں کرنا مشکل ہو گیا ہے، جس کے براہِ راست اثرات روزگار کے مواقع پر مرتب ہو رہے ہیں۔
کورونا وبا کے بعد کا سب سے بڑا بحران
اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ برطانیہ میں بے روزگاری کی موجودہ صورتحال 2019 کے بعد سے اب تک کی سب سے سنگین ترین حالت میں ہے۔ اگرچہ کورونا وبا کے دوران معیشت شدید دباؤ کا شکار تھی، تاہم حالیہ اعداد و شمار نے اس دور کے ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، لیبر مارکیٹ میں اس گراوٹ کی بڑی وجہ مہنگائی اور پیداواری لاگت میں اضافہ ہے، جس نے آجروں کو افرادی قوت میں کمی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
مستقبل کے خدشات اور حکومتی چیلنجز
بے روزگاری میں اس اچانک اضافے نے برطانوی حکومت کے لیے نئے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں اور معاشی ماہرین کی جانب سے حکومت پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ روزگار کے تحفظ اور معیشت کی بحالی کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے مہینوں میں عوامی سطح پر معاشی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔

