سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، برطانیہ میں مہنگائی کی شرح (افراط زر) میں پانچ ماہ کے وقفے کے بعد پہلی بار اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ بنیادی طور پر تمباکو کی قیمتوں میں اضافے اور فضائی کرایوں میں غیر معمولی تیزی کی وجہ سے ہوا۔
اضافے کے محرکات
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، مہنگائی کی ماہانہ شرح میں اضافے میں سب سے زیادہ معاونت شراب اور تمباکو کے شعبے نے کی، جس کے بعد ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ بھی ایک اہم عنصر رہا۔ سٹی فورکاسٹس اور ماہرین اقتصادیات نے پہلے ہی اس مخصوص ماہ میں عارضی عوامل کی بنا پر اضافے کی نشاندہی کر دی تھی۔
عارضی عوامل کا اثر
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افراط زر کی شرح میں یہ اضافہ وسیع پیمانے پر قیمتوں کے دباؤ میں دوبارہ اضافے کی علامت نہیں ہے، بلکہ یہ زیادہ تر تکنیکی اور یک طرفہ عارضی عوامل کی وجہ سے ہوا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ اضافہ معیشت میں وسیع پیمانے پر قیمتوں کے دوبارہ بڑھنے کی بجائے مخصوص اشیاء کی قیمتوں میں وقتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔
شرح سود کے فیصلے سے قبل آخری اعداد و شمار
یہ اعداد و شمار بینک آف انگلینڈ کی جانب سے 5 فروری کو شرح سود کے آئندہ فیصلے سے قبل جاری کیے جانے والے ماہانہ افراط زر کا آخری سیٹ ہے۔ مرکزی بینک ان اعداد و شمار کا بغور جائزہ لے گا تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا شرح سود کو برقرار رکھا جائے یا اس میں تبدیلی کی جائے۔ چونکہ اضافہ عارضی عوامل پر مبنی ہے، اس لیے توقع ہے کہ یہ اعداد و شمار شرح سود کے فیصلے پر زیادہ گہرا اثر نہیں ڈالیں گے۔

