جمعہ, مارچ 6, 2026
الرئيسيةبرطانوی نظامِ صحت کی سنگین غفلت: دو ماؤں کی گود اجڑ گئی،...

برطانوی نظامِ صحت کی سنگین غفلت: دو ماؤں کی گود اجڑ گئی، این ایچ ایس ٹرسٹ کی کارکردگی پر سوالات

برطانیہ کے ‘یونیورسٹی ہاسپٹلز سسیکس این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ’ میں طبی غفلت کے دلخراش واقعات نے برطانوی نظامِ صحت (این ایچ ایس) کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ بیتھ اور سوفی نامی دو ماؤں کی جانب سے اپنے نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت کے بعد سامنے آنے والے حقائق نے ہسپتال انتظامیہ کی مجرمانہ خاموشی اور انتظامی خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ان دونوں خواتین کے لیے زچگی کا مرحلہ خوشیوں کے بجائے ایک کبھی نہ ختم ہونے والے صدمے میں بدل گیا، جس کا ذمہ دار براہِ راست مذکورہ طبی ٹرسٹ کو قرار دیا جا رہا ہے۔

غم اور المیے کی داستان

بیتھ اور سوفی کی کہانیاں محض انفرادی المیے نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی ناکامی کا ثبوت ہیں جہاں مریضوں کی دیکھ بھال میں سنگین کوتاہیاں برتی گئیں۔ متاثرہ ماؤں کا کہنا ہے کہ دورانِ زچگی ان کی شکایات اور تکلیف کو مسلسل نظر انداز کیا گیا، جس کے نتیجے میں ان کے لختِ جگر دنیا میں آنے کے کچھ ہی دیر بعد زندگی کی بازی ہار گئے۔ ان خواتین کے مطابق، اگر عملہ پیشہ ورانہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا اور بروقت طبی مداخلت کی جاتی تو ان کے بچوں کی جان بچائی جا سکتی تھی۔

طبی غفلت اور انتظامی خامیاں

تحقیقاتی رپورٹس اور متاثرہ خاندانوں کے بیانات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ ‘یو ایچ سسیکس ٹرسٹ’ میں عملے کی شدید کمی، مانیٹرنگ کے ناقص انتظامات اور ہنگامی حالات میں فوری فیصلے لینے کی صلاحیت کا فقدان پایا جاتا ہے۔ ان واقعات نے یہ ظاہر کیا ہے کہ ٹرسٹ کے اندر حفاظتی پروٹوکولز پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا تھا، جس کی وجہ سے ایک ہی ادارے میں یکے بعد دیگرے دو بڑے المیے رونما ہوئے۔ ماہرینِ صحت نے ان واقعات کو نظام کی مجموعی ناکامی قرار دیتے ہوئے اسے انسانی جانوں کے ساتھ سنگین کھلواڑ قرار دیا ہے۔

انصاف کی تلاش اور اصلاحات کا مطالبہ

متاثرہ ماؤں نے اب اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اس ناانصافی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی تاکہ مستقبل میں کسی اور خاندان کو اس کرب سے نہ گزرنا پڑے۔ اس واقعے کے بعد برطانیہ بھر میں این ایچ ایس کے تحت چلنے والے ہسپتالوں میں اصلاحات کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔ عوامی حلقوں اور طبی ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ ان ہلاکتوں کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار عملے کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوامی اعتماد کو دوبارہ بحال کیا جا سکے۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں