منگل, جنوری 27, 2026
الرئيسية'بازار بے حس ہیں': ایران، گرین لینڈ اور وینزویلا کے بحرانوں سے...

‘بازار بے حس ہیں’: ایران، گرین لینڈ اور وینزویلا کے بحرانوں سے اسٹاک مارکیٹس کیوں بے پرواہ ہیں؟

عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، ایران کے ساتھ تناؤ اور ماحولیاتی خدشات (جیسے گرین لینڈ کے مسائل) کے باوجود، دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس میں مسلسل تیزی کا رجحان برقرار ہے۔ اس غیر معمولی صورتحال نے ماہرین کو حیران کر دیا ہے کہ آخر یہ اہم عالمی واقعات مارکیٹ کی سمت کیوں تبدیل نہیں کر پا رہے۔

ایک معروف فنڈ مینیجر نے اسٹاکس کی اس بے حسی کو "ایکوئٹی مارکیٹ کی مکمل بے حسی” سے تعبیر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کا رویہ واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ وہ ان واقعات کو محض شور شرابہ سمجھتے ہیں، جب تک کہ وہ براہ راست ان کی سرمایہ کاری پر اثر انداز نہ ہوں۔

بازار کی بے حسی کی بنیادی وجہ

ماہرین کا مؤقف ہے کہ اسٹاک مارکیٹس کو ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ، گرین لینڈ کے ماحولیاتی مسائل یا وینزویلا کے سیاسی عدم استحکام جیسے واقعات سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ ان کا کہنا ہے کہ "بازار سنگدل (Callous) ہوتے ہیں” اور وہ صرف اس وقت بامعنی ردعمل ظاہر کرتے ہیں جب یہ واقعات براہ راست معاشی بنیادی اصولوں (Economic Fundamentals) کو متاثر کریں یا حکومتی پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کا باعث بنیں۔

جب تک مرکزی بینکوں کی پالیسیاں سازگار رہتی ہیں اور کارپوریٹ آمدنی مستحکم رہتی ہے، اسٹاک مارکیٹس کو جغرافیائی سیاسی شور شرابے سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔

بینکنگ اور ٹیکنالوجی سیکٹر میں تیزی

حالیہ اعداد و شمار اس رجحان کی تصدیق کرتے ہیں۔ بینکنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں زبردست تیزی کے بعد اسٹاک فیوچرز میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کاروں کی توجہ بنیادی طور پر منافع بخش سیکٹرز پر مرکوز ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ وینزویلا، جو شدید سیاسی اور معاشی بحران کا شکار ہے، وہاں کے اسٹاکس میں بھی ریکارڈ ۱۳۰ فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہ غیر معمولی اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مقامی مارکیٹس بھی سیاسی افراتفری اور رہنماؤں کی تبدیلی کے باوجود اوپر جا سکتی ہیں، بشرطیکہ سرمایہ کاروں کو مستقبل میں معاشی استحکام یا پالیسی میں بہتری کی امید ہو۔

مجموعی طور پر، عالمی سرمایہ کاروں کا نقطہ نظر واضح ہے: اسٹاک مارکیٹ کی سمت کا تعین عالمی تناؤ سے نہیں بلکہ معاشی بنیادوں اور پالیسی سازوں کے فیصلوں سے ہوتا ہے۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں