اپنی عمر کو روکنے اور طویل عرصے تک جوان رہنے کی جستجو میں مصروف معروف امریکی سرمایہ کار برائن جانسن نے ایک نیا اور مہنگا ترین پروگرام ‘امورٹلز’ (Immortals) متعارف کروا دیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت وہ لوگوں کو طویل عمری کے گر سکھائیں گے، تاہم اس کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے امیدواروں کو ایک ملین ڈالر (تقریباً 28 کروڑ پاکستانی روپے) کی خطیر رقم ادا کرنی ہوگی۔
پروگرام کی تفصیلات اور مقصد
برائن جانسن، جو اپنی بڑھتی ہوئی عمر کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے سالانہ لاکھوں ڈالر خرچ کرنے کی وجہ سے عالمی سطح پر مشہور ہیں، اب اپنے تجربات اور سائنسی طریقوں کو دوسروں تک منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ ‘امورٹلز’ نامی اس خصوصی پروگرام میں صرف ان افراد کو شامل کیا جائے گا جو نہ صرف بھاری رقم ادا کرنے کی سکت رکھتے ہوں بلکہ طویل عمری کے سخت ترین نظم و ضبط پر عمل کرنے کے لیے بھی تیار ہوں۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد انسانی زندگی کی مدت میں غیر معمولی اضافہ کرنا اور حیاتیاتی عمر کو کم کرنا ہے۔
برائن جانسن کا طرزِ زندگی اور ‘بلیو پرنٹ’
46 سالہ برائن جانسن اس سے قبل اپنے ‘بلیو پرنٹ’ پروجیکٹ کی وجہ سے شہرت حاصل کر چکے ہیں، جس میں وہ روزانہ درجنوں سپلیمنٹس لیتے ہیں، ایک مخصوص وقت پر کھانا کھاتے ہیں اور اپنے جسم کے ہر عضو کی کڑی نگرانی کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس سخت طرزِ زندگی کی بدولت ان کے جسمانی اعضاء اب ان کی اصل عمر سے کہیں زیادہ جوان ہو چکے ہیں۔ اب وہ اسی طرزِ زندگی اور سائنسی پروٹوکول کو ایک مہنگے تجارتی ماڈل کے طور پر پیش کر رہے ہیں، جس میں مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال بھی شامل ہو سکتا ہے۔
ماہرین کی رائے اور عوامی ردعمل
طبی ماہرین اور ناقدین کی جانب سے اس پروگرام پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ جہاں کچھ حلقے اسے مستقبل کی بائیو ٹیکنالوجی کی جانب ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں، وہیں ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک ملین ڈالر کی فیس اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ‘لافانی’ ہونے یا طویل زندگی پانے کا تصور صرف امراء تک محدود ہوتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا محض دولت اور سخت پرہیز کے ذریعے موت کو شکست دینا ممکن ہے یا یہ محض ایک مہنگا خواب ہے۔

