ایپل کی شیئر قیمت نے اپریل کے بعد سے سب سے خراب دن کا سامنا کیا ہے۔ امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن (FTC) کے چیئر اینڈریو فرگوسن کی جانب سے کمپنی کے ممکنہ سیاسی تعصب کے بارے میں تحقیقات کی طلب اور آئی فون کے مصنوعی ذہانت اسسٹنٹ سِری کی متوقع تاخیر کی خبریں اس گراوٹ کے بنیادی اسباب سمجھی جا رہی ہیں۔
مارکیٹ کا ردعمل
نئی تجارتی سیشن کے آغاز میں ایپل کے اسٹاک نے تقریباً 5.6 فیصد کمی دکھائی، جو اس سال کی اپریل کے بعد سے اس کی سب سے بڑی کمی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے FTC کی جانب سے بڑھتی ہوئی قانونی دباؤ اور سِری کی تاخیر کے اثرات کو منفی طور پر سراہا ہے۔
FTC کی تحقیق اور سیاسی تعصب کے الزامات
FTC کے چیئر اینڈریو فرگوسن نے ایپل پر اس بات کا سوال اٹھایا ہے کہ آیا اس کے پلیٹ فارم پر سیاسی مواد کی نمائش میں کسی قسم کا تعصب موجود ہے۔ اس سلسلے میں کمیٹی نے ایپل کو اپنی الگورتھم اور مواد کی درجہ بندی کے طریقہ کار کی مکمل جانچ پڑتال کے لیے دستاویزات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایپل نے اس درخواست پر ابھی تک کوئی حتمی ردعمل نہیں دیا۔
سِری کی تاخیر کی رپورٹیں
متعدد ذرائع کے مطابق ایپل کے جدید AI اسسٹنٹ سِری کی نئی اپ ڈیٹ میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ کمپنی کے اندرونی انجینئرنگ ٹیم نے تکنیکی چیلنجز اور حفاظتی خدشات کے باعث فیچرز کی ریلیز کو موخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تاخیر کے باعث ایپل کے مستقبل کے AI منصوبوں پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔
ایپل کا ردعمل
ایپل نے ابھی تک FTC کی تحقیقات اور سِری کی تاخیر کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا۔ تاہم، کمپنی کے ایک ترجمان نے کہا کہ ایپل "قانونی تقاضوں کی مکمل تعمیل” اور "صارفین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل کام” کر رہا ہے۔
آگے کا منظرنامہ
ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگر FTC کی تحقیقات کے نتائج منفی نکلتے ہیں تو ایپل کو بھاری جرمانے اور ریگولیٹری پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سِری کی تاخیر بھی کمپنی کی مسابقتی پوزیشن کو متاثر کر سکتی ہے، خاص طور پر جب دیگر ٹیکنالوجی دیوائسز AI اسسٹنٹس کے میدان میں تیزی سے پیش قدمی کر رہے ہیں۔

