جمعرات, مارچ 5, 2026
الرئيسيةایپسٹین کیس کی نئی دستاویزات: شہزادہ اینڈریو کے 2019 کے انٹرویو پر...

ایپسٹین کیس کی نئی دستاویزات: شہزادہ اینڈریو کے 2019 کے انٹرویو پر سوالات اٹھ گئے

جیفری ایپسٹین کیس سے متعلق نئی دستاویزات کے منظرِ عام پر آنے کے بعد برطانوی شاہی خاندان کے رکن شہزادہ اینڈریو کے 2019 میں دیے گئے بی بی سی کے متنازع انٹرویو پر ایک بار پھر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ان نئی دستاویزات اور ای میلز نے شہزادے کے سابقہ دعوؤں کی ساکھ کو مشکوک بنا دیا ہے، جس کے بعد عالمی میڈیا میں ان کے بیانات کا نئے شواہد کے ساتھ موازنہ کیا جا رہا ہے۔

2019 کا انٹرویو اور حالیہ تضادات

شہزادہ اینڈریو نے 2019 میں بی بی سی کو دیے گئے اپنے مشہورِ زمانہ انٹرویو میں جیفری ایپسٹین کے ساتھ اپنے تعلقات کی نوعیت اور ان کی غیر قانونی سرگرمیوں سے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔ تاہم، حالیہ افشا ہونے والی ای میلز اور عدالتی دستاویزات میں ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جو شہزادے کے ان دعوؤں سے براہِ راست متصادم نظر آتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان دستاویزات میں موجود معلومات اور شہزادے کے بیانات میں واضح فرق پایا جاتا ہے، جو ان کی دفاعی پوزیشن کو کمزور کر رہا ہے۔

دعوؤں کی کڑی جانچ پڑتال

ان نئی دستاویزات میں ایپسٹین کے مختلف ٹھکانوں پر شہزادہ اینڈریو کی موجودگی اور ان کے درمیان ہونے والے رابطوں کی تفصیلات درج ہیں۔ خاص طور پر ورجینیا جوفری کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے تناظر میں شہزادے کا یہ دفاع کہ وہ مخصوص مواقع پر وہاں موجود نہیں تھے، اب مزید کڑی جانچ پڑتال کی زد میں ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ ای میلز اس پورے معاملے میں ایک نیا رخ پیدا کر سکتی ہیں کیونکہ ان میں ان ملاقاتوں کا ذکر ہے جن سے شہزادہ پہلے انکار کرتے رہے ہیں۔

شاہی خاندان کے لیے بڑھتی ہوئی مشکلات

انکشافات کے اس نئے سلسلے نے برطانوی شاہی خاندان کے لیے ایک بار پھر مشکل صورتحال پیدا کر دی ہے۔ جہاں ایک طرف عوامی سطح پر ان دستاویزات کے حوالے سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے، وہیں دوسری طرف قانونی حلقوں میں بھی ان نئے شواہد کی روشنی میں معاملے کی ازسرِ نو تحقیقات کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ فی الحال شاہی محل کی جانب سے ان تازہ ترین انکشافات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن عالمی سطح پر شہزادہ اینڈریو کے ماضی کے بیانات کا ازسرِ نو جائزہ لیا جا رہا ہے۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں