برطانیہ کی سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کی غفلت کے نتیجے میں زخمی ہونے والے بچے اپنی زندگی بھر کی متوقع آمدنی کے نقصان کے لیے ہرجانے کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔ اس فیصلے کے این ایچ ایس کے لیے مالی طور پر نمایاں اور بھاری اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
تفصیلات
یہ اہم فیصلہ 2015 میں پیدا ہونے والے ایک ایسے بچے کے مقدمے کے تناظر میں سامنے آیا ہے جسے پیدائش کے وقت دماغی چوٹ پہنچی تھی۔ عدالت نے اس مقدمے کی سماعت کے بعد یہ رولنگ دی ہے، جس کے تحت ایسے متاثرہ بچوں کو ان کی متوقع پیشہ ورانہ زندگی کے دوران ہونے والے آمدنی کے نقصان کا معاوضہ دیا جائے گا۔
اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ این ایچ ایس کی غفلت کے باعث مستقل معذوری کا شکار ہونے والے بچوں کو اب نہ صرف ان کے علاج معالجے، دیکھ بھال اور خصوصی ضروریات کے اخراجات دیے جائیں گے بلکہ انہیں اس آمدنی کے نقصان کا بھی معاوضہ ملے گا جو وہ اپنی زندگی بھر کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے مطابق کما سکتے تھے۔ یہ رولنگ متاثرہ خاندانوں کے لیے ایک بڑی مالی اور اخلاقی حمایت ثابت ہوگی۔
این ایچ ایس پر ممکنہ مالی بوجھ
ماہرین قانون اور صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے این ایچ ایس پر مالی بوجھ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ ہرجانے کی مد میں ادا کی جانے والی رقوم میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے پہلے ہی مالی دباؤ کا شکار اس قومی ادارے کے وسائل پر مزید دباؤ پڑے گا۔ یہ فیصلہ مستقبل میں این ایچ ایس کے خلاف دائر ہونے والے غفلت کے مقدمات اور ان کے تصفیے کے طریقہ کار پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا۔

