امریکی ٹیکنالوجی کی دیو ہیکل کمپنی ایمیزون نے 9 روزہ مسلسل مندی کا سلسلہ ختم کر دیا ہے، جس کے دوران کمپنی کی مالیت میں 450 ارب ڈالر سے زائد کی کمی واقع ہوئی تھی۔ یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایمیزون نے اپنے حالیہ مالیاتی نتائج کے اعلان کے موقع پر بتایا ہے کہ وہ رواں سال مصنوعی ذہانت (AI) کے منصوبوں پر 200 ارب ڈالر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
مصنوعی ذہانت پر بھاری سرمایہ کاری
ایمیزون کے حکام نے اپنے حالیہ آمدنی کے اعلان کے دوران اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کمپنی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب کمپنی کو گزشتہ نو دنوں میں شدید مالی نقصان کا سامنا رہا۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت میں یہ بھاری سرمایہ کاری مستقبل میں کمپنی کی ترقی کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔
گزشتہ ہفتے کے دوران ایمیزون کے شیئرز میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی تھی، جس کے نتیجے میں کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں اربوں ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔ تاہم، حالیہ دنوں میں شیئرز کی قدر میں استحکام اور معمولی اضافے نے سرمایہ کاروں کو کچھ راحت دی ہے۔
بازار کا ردعمل اور مستقبل کی توقعات
بازار کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمیزون کی جانب سے مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کا اعلان ایک مثبت اشارہ ہے، جو طویل مدتی بنیادوں پر کمپنی کی کارکردگی کو بہتر بنا سکتا ہے۔ اگرچہ حالیہ مندی نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کیا تھا، لیکن مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کمپنی کے عزائم مستقبل کے لیے امید افزا ہیں۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ مصنوعی ذہانت آج کل دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کی صنعت کا سب سے گرم موضوع ہے اور بڑی کمپنیاں اس شعبے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ایمیزون کا یہ قدم اس عالمی رجحان کے عین مطابق ہے۔

