عالمی ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی ایمیزون کو حالیہ عرصے میں اپنی مارکیٹ ویلیو میں 450 ارب ڈالر کا تاریخی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ یہ کمپنی کے لیے ایک غیر معمولی اور مسلسل گراوٹ کا سلسلہ ہے جس کی اہم وجوہات میں مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں اس کی بھاری سرمایہ کاری شامل ہے۔
مارکیٹ ویلیو میں غیر معمولی گراوٹ
ایمیزون کی مارکیٹ ویلیو میں یہ غیر معمولی کمی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی سیکٹر کئی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ کمپنی کی قدر میں 450 ارب ڈالر کی یہ کمی اس کے حصص کی قیمتوں میں مسلسل گراوٹ کا نتیجہ ہے، جسے تجزیہ کار ایک ‘تاریخی نقصان کا سلسلہ’ قرار دے رہے ہیں۔ اس گراوٹ نے سرمایہ کاروں میں تشویش پیدا کر دی ہے اور کمپنی کی مستقبل کی حکمت عملی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
مصنوعی ذہانت پر خطیر اخراجات
کمپنی کی جانب سے جاری کردہ حالیہ آمدنی رپورٹ کے مطابق، ایمیزون نے رواں سال مصنوعی ذہانت (AI) کے مختلف منصوبوں پر 200 ارب ڈالر خرچ کرنے کا تخمینہ لگایا ہے۔ اگرچہ مصنوعی ذہانت کو مستقبل کی ٹیکنالوجی سمجھا جاتا ہے اور اس میں سرمایہ کاری طویل مدتی فوائد کا باعث بن سکتی ہے، تاہم ابتدائی طور پر اس پر ہونے والے خطیر اخراجات کمپنی کی موجودہ مالی کارکردگی اور حصص کی قیمتوں پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اتنی بڑی سرمایہ کاری فوری منافع نہیں دے گی اور اس سے کمپنی کے مختصر مدتی مالی اہداف متاثر ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمیزون کی یہ حکمت عملی مستقبل میں اسے ٹیکنالوجی کی دوڑ میں آگے رکھ سکتی ہے، لیکن فی الحال اسے اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔

