امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں پرتشدد مظاہروں کے بعد جاری کریک ڈاؤن میں اب ہلاکتیں رک گئی ہیں اور پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بیان اوول آفس سے جاری کیا، تاہم انہوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے امکان کو مکمل طور پر خارج نہیں کیا۔
ہلاکتیں تھم گئیں، سزائے موت کا معاملہ
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا، "ہمیں بتایا گیا ہے کہ ایران میں ہلاکتیں رک رہی ہیں، اور پھانسیوں کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ہلاکتیں تھم چکی ہیں۔” یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی اطلاعات عالمی سطح پر زیر بحث ہیں۔
اس دوران، ایرانی سرکاری میڈیا نے عدلیہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ زیر حراست شخص سلطانی کو سزائے موت نہیں دی گئی ہے، جبکہ اس سے قبل ان کے خاندان نے ان کی پھانسی ملتوی ہونے کی اطلاع دی تھی۔ یہ معاملہ بھی عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔
ٹرمپ کا سخت انتباہ: واشنگٹن ‘مستعد’
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو پرامن مظاہرین کے خلاف مہلک طاقت استعمال کرنے کے خلاف سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن کسی بھی جوابی کارروائی کے لیے "مکمل طور پر مستعد” (locked and loaded) ہے۔
صدر ٹرمپ نے زور دیا کہ اگر ایران نے مظاہرین کے خلاف مزید تشدد کا راستہ اپنایا تو امریکہ جوابی کارروائی کے لیے تیار ہے۔ اس کشیدہ صورتحال کے پیش نظر، تہران نے عارضی طور پر اپنی فضائی حدود تقریباً تمام پروازوں کے لیے بند کر دی ہے، جس سے خطے میں بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی ہوتی ہے۔

