ہفتہ, مارچ 7, 2026
الرئيسيةUncategorizedایران میں انٹرنیٹ کی جزوی بحالی، مگر ڈیجیٹل پابندیاں برقرار

ایران میں انٹرنیٹ کی جزوی بحالی، مگر ڈیجیٹل پابندیاں برقرار

ایران میں تقریباً 20 دن کی طویل بندش کے بعد انٹرنیٹ سروسز کی جزوی بحالی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ یہ بندش حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کے بعد نافذ کی گئی تھی۔ تاہم، ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اس ڈیجیٹل بلیک آؤٹ کے خاتمے کے باوجود، انٹرنیٹ تک رسائی اب بھی محدود اور غیر یقینی ہے۔

بندش اور حکومتی کریک ڈاؤن

ملک بھر میں انٹرنیٹ کا رابطہ 8 جنوری کو مکمل طور پر منقطع کر دیا گیا تھا، جب حکومت نے بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کو کچلنے کے لیے سخت اقدامات کیے تھے۔ یہ اقدام مظاہروں کی ویڈیوز اور معلومات کو بیرونی دنیا تک پہنچنے سے روکنے کے لیے کیا گیا تھا۔

مانیٹرنگ اداروں کے مطابق، مظاہرین کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے دوران، ایران کے انٹرنیٹ کو 20 دن تک انتہائی محدود (تھروٹل) رکھا گیا تھا۔ بدھ کے روز سے کچھ علاقوں میں اس کی جزوی بحالی کا عمل شروع ہوا ہے، جس سے شہریوں کو ایک مختصر وقفے کے بعد دوبارہ آن لائن آنے کا موقع ملا ہے۔

ماہرین کا انتباہ: سب کے لیے رسائی نہیں

انٹرنیٹ کی جزوی بحالی کے باوجود، ماہرین سائبر سکیورٹی اور ڈیجیٹل حقوق کے حوالے سے تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بحالی ہر شہری کے لیے یکساں نہیں ہے اور حکام نے انٹرنیٹ کی رفتار کو جان بوجھ کر کم رکھا ہے۔

ماہرین کے مطابق، ڈیجیٹل بلیک آؤٹ کے بعد بھی حکومتی نگرانی میں اضافہ کر دیا گیا ہے اور یہ خدشہ موجود ہے کہ حکام کسی بھی وقت دوبارہ مکمل بندش نافذ کر سکتے ہیں یا مخصوص ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی کو مستقل طور پر محدود کر سکتے ہیں۔ اس جزوی بحالی کا مقصد بین الاقوامی دباؤ کو کم کرنا ہو سکتا ہے، لیکن ملک کے اندر ڈیجیٹل آزادیوں پر پابندیاں بدستور برقرار ہیں۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں