ایران میں طلبہ نے گزشتہ ماہ ملک گیر بڑے پیمانے پر ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں پر مہلک کریک ڈاؤن کے بعد پہلی بار دوبارہ حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ ان مظاہروں میں طلبہ نے گزشتہ ماہ کی پرتشدد کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے ہزاروں افراد کو خراج تحسین پیش کیا۔
شہداء کو خراج تحسین اور مطالبات
ملک کی مختلف یونیورسٹیوں میں طلبہ نے جمع ہو کر حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور گزشتہ ماہ کے مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے افراد کی یاد منائی۔ یہ مظاہرے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ایران میں مہسا امینی کی موت کے بعد شروع ہونے والے احتجاجی سلسلے کو دبانے کے لیے حکومتی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں ہزاروں افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
طلبہ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ ہلاک ہونے والوں کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال بند کیا جائے۔ ان مظاہروں کو ملک میں جاری کشیدگی اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف عوامی ناراضی کا ایک اور اظہار سمجھا جا رہا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومتی کریک ڈاؤن کے باوجود احتجاج کی چنگاری ابھی بجھی نہیں ہے۔

