معاملے سے واقف ذرائع کے مطابق، مصنوعی ذہانت (AI) کی انفرنس مارکیٹ میں غیر معمولی تیزی کے پیش نظر، یو سی برکلے کے ایک اہم اوپن سورس تحقیقی منصوبے ‘ایس جی لینگ’ (SGLang) نے ایک نئی کمپنی کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اس نئی کمپنی کا نام ‘ریڈکس آرک’ (RadixArk) رکھا گیا ہے اور حال ہی میں اس کی مالیت تقریباً 400 ملین ڈالر لگائی گئی ہے۔
ایکسل کی قیادت میں فنڈنگ
ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ریڈکس آرک کو یہ قابل ذکر مالیت ایک فنڈنگ دور کے دوران حاصل ہوئی، جس کی قیادت معروف وینچر کیپیٹل فرم ‘ایکسل’ (Accel) نے کی۔ یہ بھاری مالیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کس طرح تیزی سے بڑھتی ہوئی انفرنس ٹیکنالوجی مارکیٹ میں سٹارٹ اپس کو اہمیت دی جا رہی ہے اور سرمایہ کار اس شعبے میں بڑے پیمانے پر دلچسپی لے رہے ہیں۔
منصوبے کا پس منظر
ایس جی لینگ کا آغاز یو سی برکلے میں پروفیسر آئن سٹوئیکا (Ion Stoica) کی لیب میں ایک اوپن سورس تحقیقی منصوبے کے طور پر ہوا تھا۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد اے آئی ماڈلز کو تعینات کرنے (deploy) اور چلانے کے لیے جدید اور مؤثر حل فراہم کرنا تھا۔ یہ ٹیکنالوجی اب ریڈکس آرک کے تجارتی بنیادوں پر کام کرنے کا مرکز بنے گی، جس کا مقصد اے آئی ماڈلز کے استعمال کو مزید تیز اور کم خرچ بنانا ہے۔
انفرنس مارکیٹ کی اہمیت
انفرنس مارکیٹ، جو کہ تربیت یافتہ اے آئی ماڈلز کو حقیقی دنیا کے استعمال کے لیے چلانے سے متعلق ہے، حالیہ برسوں میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔ جیسے جیسے کمپنیاں اپنے روزمرہ کے کاموں میں بڑے لسانی ماڈلز (LLMs) کو شامل کر رہی ہیں، ان ماڈلز کو مؤثر طریقے سے چلانے کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔ ریڈکس آرک کا قیام اور اس کی ابتدائی بھاری مالیت اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس شعبے کی اہمیت کتنی بڑھ چکی ہے۔

