چیلنجر، گرے اینڈ کرسمس (Challenger, Gray & Christmas) کی جانب سے جاری کردہ نئے اعداد و شمار کے مطابق، امریکی آجروں نے جنوری کے مہینے میں 108,435 ملازمتوں سے جبری برطرفی کا اعلان کیا۔ یہ تعداد سال کے آغاز کے لحاظ سے 2009 کے بعد سب سے زیادہ ہے، جو لیبر مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی بے یقینی کی نشاندہی کرتی ہے۔
تاریخی موازنہ اور اعداد و شمار
رپورٹ کے مطابق، جنوری میں برطرفیوں کا یہ حجم گزشتہ 15 برسوں میں کسی بھی جنوری کے مہینے میں اعلان کردہ سب سے بڑی تعداد ہے۔ آخری بار اس سے زیادہ برطرفیاں جنوری 2009 میں ریکارڈ کی گئی تھیں، جب معاشی بحران کے عروج پر 241,749 ملازمتوں میں کٹوتی کا اعلان کیا گیا تھا۔
چیلنجر کے اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ یہ صرف سال کے آغاز کے لیے ہی نہیں بلکہ گزشتہ سال اکتوبر کے بعد کسی بھی مہینے میں اعلان کردہ سب سے بڑی ماہانہ تعداد ہے۔ یہ صورتحال اس بیانیے کے برعکس ہے جو حالیہ عرصے میں لیبر مارکیٹ کے بارے میں عام تھا کہ کمپنیاں نہ تو بڑے پیمانے پر بھرتی کر رہی ہیں اور نہ ہی بڑے پیمانے پر برطرفیاں (no-hire no-fire) کر رہی ہیں۔
معاشی دباؤ کا اشارہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ ملازمتوں سے جبری برطرفی میں یہ غیر معمولی اضافہ امریکی معیشت میں بڑھتے ہوئے دباؤ اور کمپنیوں کی جانب سے لاگت میں کمی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ لیبر مارکیٹ میں استحکام کے بجائے اب بے یقینی کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے، اور کمپنیوں پر منافع کے مارجن کو برقرار رکھنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ جنوری میں اعلان کردہ برطرفیوں میں تقریباً 40 فیصد کا تعلق مخصوص شعبوں سے تھا، تاہم مجموعی طور پر یہ رجحان وسیع پیمانے پر مختلف صنعتوں میں پھیلتا نظر آ رہا ہے۔

