امریکہ کی حمایت سے تشکیل دی گئی فلسطینی "نیشنل گیزا ایڈمنسٹریٹو کمٹی” (NGAC) نے غزہ کی مستقبل کی انتظامیہ کے لیے اپنا مشن سٹیٹمنٹ عوام کے سامنے پیش کیا۔ یہ تکنوقراطی باڈی، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے تحت قائم کیا گیا تھا، اسرائیل کے حامی افراد پر مشتمل "بورڈ آف پیس” کی رہنمائی میں کام کرے گی۔
کمیٹی کا مشن اور ساخت
NGAC نے اپنے بیانیے میں واضح کیا کہ اس کا بنیادی مقصد غزہ میں امن، استحکام اور بنیادی خدمات کی بحالی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ کمیٹی کی کارکردگی کو شفافیت، تکنیکی مہارت اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق رکھا جائے گا۔ تاہم، اس کی قیادت اور اراکین میں متعدد ایسے افراد شامل ہیں جن کے واضح طور پر اسرائیل کے حق میں موقف سامنے آتا ہے، جس سے اس کی غیرجانبداری پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
امریکہ اور اقوام متحدہ کی منظوری
یہ ادارہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے قرارداد نمبر 2803 کے تحت قانونی حیثیت حاصل کر چکا ہے۔ اس قرارداد کے تحت امریکہ نے غزہ کی نئی انتظامیہ کے قیام کے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل کی ہے اور اس کے نفاذ کے لیے ضروری وسائل فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ امریکی سفارت خانے نے اس اقدام کو "غزہ کی عوام کے لیے ایک مستحکم اور خودمختار مستقبل کی جانب ایک اہم قدم” قرار دیا۔
اسرائیل کی مخالفت
اسرائیل نے اس کمیٹی کے قیام پر نادر طور پر تنقید کی اور کہا کہ NGAC "اسرائیل کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے اور اس کی پالیسی کے منافی ہے”۔ اسرائیلی حکام نے واضح کیا کہ غزہ کی انتظامیہ کے کسی بھی منصوبے کو اس کے ساتھ مشاورت کے بغیر پیش کرنا غیر ذمہ دارانہ ہے اور اس سے خطے میں مزید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود، امریکی اور فلسطینی حکام اس بات پر اصرار کر رہے ہیں کہ نئی انتظامیہ کے ذریعے غزہ میں امن کی بحالی ممکن ہو سکے گی۔

