منگل, جنوری 27, 2026
الرئيسيةامریکی انصاف محکمہ منیسوٹا حکام کی امیگریشن چھاپوں پر تحقیقات شروع

امریکی انصاف محکمہ منیسوٹا حکام کی امیگریشن چھاپوں پر تحقیقات شروع

امریکہ کے انصاف کے محکمہ (DOJ) نے منیسوٹا میں حالیہ امیگریشن چھاپوں کے دوران وفاقی امیگریشن ایجنٹوں کی کارکردگی میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات کی جانچ کے لیے ایک خصوصی تحقیق کا آغاز کیا ہے۔ اس تحقیق کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا ریاستی اور مقامی حکام نے وفاقی ایجنٹوں کو اپنے فرائض انجام دینے سے روکا یا محدود کیا۔

تحقیقات کی نوعیت اور دائرہ کار

تحقیقات کے تحت منیسوٹا کے اٹارنی جنرل اور سینٹ پال کے میئر سمیت متعدد سرکاری عہدیداروں کو سبپینا (حلفیہ طلب) جاری کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وفاقی پراسیکیوٹرز نے کم از کم پانچ منیسوٹا کے ڈیموکریٹک رہنماؤں، جن میں گورنر ٹم والز بھی شامل ہیں، پر بھی گرینڈ جیوری سبپینا جاری کیا ہے۔ یہ قدم اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وفاقی حکام اور ریاستی حکام کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو قانونی طور پر حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مقامی اور ریاستی حکام کا ردعمل

منیسوٹا کے اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ تمام قانونی تقاضوں کی پابندی کریں گے اور اس تحقیق میں مکمل تعاون فراہم کریں گے۔ سینٹ پال کے میئر نے بھی اس بات پر زور دیا کہ شہر کی پالیسیوں کا مقصد انسانی حقوق کا احترام اور مقامی کمیونٹی کی حفاظت ہے، اور وہ کسی بھی غیر قانونی مداخلت کے خلاف کھڑے ہوں گے۔

وفاقی اور ریاستی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی

یہ تحقیق اس وقت سامنے آئی ہے جب وفاقی حکام نے منیسوٹا میں متعدد امیگریشن چھاپے کیے تھے، جن پر مقامی حکام نے انسانی حقوق کے تحفظ اور قانونی عمل کے احترام کے لیے اعتراضات ظاہر کیے۔ اس کے نتیجے میں وفاقی اور ریاستی حکام کے درمیان تنازعہ بڑھ گیا ہے، جس کے حل کے لیے قانونی چارہ جوئی کی جانب رجوع کیا جا رہا ہے۔

آئندہ اقدامات

تحقیقات کے نتائج کے بعد DOJ ممکنہ طور پر مزید قانونی کارروائی یا حکومتی ہدایات جاری کر سکتا ہے۔ اس دوران منیسوٹا کے عوام اور امیگریشن کمیونٹی کو اس معاملے کی پیش رفت پر گہری نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں