امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے مطابق جمعہ کے روز شام کے شمال‑مغرب میں کیے گئے ایک فضائی حملے میں ایک القاعدہ سے منسلک رہنما ہلاک ہوا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والا شخص اس حملے سے منسلک تھا جس میں دسمبر میں امریکی فوجیوں کے تین افراد کو قتل کیا گیا تھا۔
حملے کی تفصیلات
یہ امریکہ کی شام میں کی جانے والی تیسری انتقامی کارروائی تھی۔ سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ اس بار کا ہدف ایک معروف القاعدہ کا رکن تھا جس کا نام بلال حسن الجاسم درج ہے۔ الجاسم کو اس وقت کے حملے کے منصوبہ ساز اور اس کے ساتھ مل کر کارروائی کرنے والے افراد میں شمار کیا جاتا تھا۔
پچھلے حملے کا پس منظر
دسمبر 2023 میں شام کے ایک علاقے میں ایک دھماکہ ہوا جس میں تین امریکی فوجی مارے گئے۔ امریکی حکام نے اس حملے کو ایک داعش (IS) کے ساتھ منسلک گروہ کے ذریعے انجام دیا ہوا قرار دیا تھا۔ اس کے بعد امریکہ نے متعدد ردعمل کے طور پر شام میں فضائی حملے کیے، جن کا مقصد اس دہشتگرد نیٹ ورک کے اہم افراد کو نشانہ بنانا تھا۔
امریکی موقف
امریکی دفاعی حکام نے اس قتل کو "قانونی اور ضروری کارروائی” کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلال حسن الجاسم جیسے افراد کی ہلاکت سے دہشتگرد تنظیموں کی کارروائیوں میں رکاوٹ آئے گی اور امریکی فوجیوں کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عالمی ردعمل
عالمی سطح پر اس کارروائی پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔ کچھ ممالک نے امریکہ کے حق میں اظہار حمایت کیا ہے، جبکہ دیگر نے خطے میں بڑھتے ہوئے فوجی مداخلت کے خطرات پر تنبیہ کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انسانی حقوق کے تنظیموں نے کسی بھی شہری جانوں کے نقصان سے بچنے کی اپیل کی ہے۔

