شمالی اوقیانوسی معاہدے کی تنظیم (نیٹو) کے رکن ممالک نے ڈنمارک کی دعوت پر گرین لینڈ میں اپنے فوجی دستوں کی تعیناتی شروع کر دی ہے۔ یہ پیش رفت امریکہ، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے حکام کے درمیان ہونے والے انتہائی کشیدہ اور بے نتیجہ مذاکرات کے فوری بعد سامنے آئی ہے۔
فوجی سرگرمیوں میں اضافہ
نیٹو کے متعدد ارکان نے گرین لینڈ میں چھوٹے فوجی دستے بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس خطے میں فوجی مشقوں اور سرگرمیوں میں اضافہ کیا جا سکے۔ یہ اقدام ڈنمارک کی جانب سے گرین لینڈ میں اپنی فوجی موجودگی کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے، جو کہ آرکٹک خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی اہمیت کے پیش نظر کیا جا رہا ہے۔
نائب صدر وینس سے ملاقات بے نتیجہ
یہ فوجی تعیناتی ایک ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب ڈنمارک اور دیگر نیٹو اتحادیوں کی جانب سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ ہونے والی ملاقات کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق، امریکہ اور ڈنمارک کے درمیان گرین لینڈ کے دفاعی اور اقتصادی مستقبل کے حوالے سے شدید اختلافات پائے جاتے تھے، جس کے باعث یہ مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔
مذاکرات کے اختتام کے فوراً بعد دیگر نیٹو ممالک کی جانب سے گرین لینڈ میں فوجی سرگرمیوں کا فوری آغاز اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اتحادی ممالک نے امریکہ کے ساتھ سفارتی تعطل کے بعد ایک مربوط اور مشترکہ ردعمل ظاہر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جغرافیائی سیاسی اہمیت
اگرچہ گرین لینڈ میں تعینات کیے جانے والے فوجی دستوں کی تعداد کم ہے، لیکن یہ اقدام آرکٹک خطے میں فوجی موجودگی میں ایک اہم اضافہ ہے۔ گرین لینڈ، جو کہ ڈنمارک کے زیر انتظام ایک خود مختار علاقہ ہے، اپنی تزویراتی (Strategic) پوزیشن کی وجہ سے عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ ڈنمارک اور نیٹو اتحادیوں کا یہ فیصلہ خطے میں امریکہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو متوازن کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

