امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غیر ملکی امداد میں کٹوتی اور اقوام متحدہ کے اہداف کے حصول میں ناکامی پر مسلسل تنقید کے تناظر میں، امریکا نے تنظیم کے واجب الادا تقریباً 4 ارب ڈالر کے بقایاجات میں سے تقریباً 16 کروڑ ڈالر کی ادائیگی کر دی ہے۔
اقوام متحدہ کے فنڈنگ میں امریکا کا کردار
یہ ادائیگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا، جو اقوام متحدہ کا سب سے بڑا مالی معاون ہے، نے تنظیم کے بجٹ اور فنڈنگ کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کی ہے۔ صدر ٹرمپ انتظامیہ نے ماضی میں اقوام متحدہ کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے فنڈنگ میں کمی کی دھمکیاں دی تھیں اور بعض اوقات اسے "مہنگا کلب” قرار دیا تھا۔
اقوام متحدہ کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ رکن ممالک کے واجبات سے پورا ہوتا ہے، جن میں امریکا کا حصہ سب سے نمایاں ہے۔ تنظیم کے لیے فنڈز کی بروقت فراہمی اس کے مختلف پروگراموں اور امن مشنوں کے لیے انتہائی اہم ہوتی ہے۔
تاہم، حالیہ ادائیگی کے باوجود، امریکا پر اب بھی اربوں ڈالر کے واجبات باقی ہیں، جن کی مکمل ادائیگی کا انحصار مستقبل میں امریکی حکومت کی پالیسیوں پر ہوگا۔

