منگل, جنوری 27, 2026
الرئيسيةافغانستان میں نیٹو افواج کے محاذ جنگ سے گریز کے ٹرمپ کے...

افغانستان میں نیٹو افواج کے محاذ جنگ سے گریز کے ٹرمپ کے دعوے کو ڈاؤننگ سٹریٹ نے مسترد کر دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان جنگ میں نیٹو افواج کے کردار کے حوالے سے جو دعویٰ کیا تھا، اسے برطانوی حکومت نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ڈاؤننگ سٹریٹ نے واضح کیا ہے کہ ٹرمپ کا یہ بیان کہ نیٹو افواج محاذ جنگ سے "تھوڑا پیچھے” رہتی تھیں، سراسر غلط اور حقائق کے منافی ہے۔

برطانوی فوجیوں کے کردار کو کم کرنے کی کوشش

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ نیٹو کے فوجی دستے افغانستان میں فرنٹ لائن سے "تھوڑا ہٹ کر” رہتے تھے۔ اس بیان کے بعد برطانوی سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ برطانوی حکومت نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے یاد دلایا کہ اس تنازعے میں 457 برطانوی فوجی اہلکار اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ برطانوی افواج نے محاذ جنگ پر بھرپور اور فعال کردار ادا کیا۔

ڈاؤننگ سٹریٹ نے ایک بیان میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا نیٹو اور برطانوی فوجیوں کے کردار کو کم کرنے والا بیان "غلط” تھا۔ ترجمان نے زور دیا کہ برطانوی فوجیوں نے افغانستان میں انتہائی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا اور انہوں نے فرنٹ لائن پر اہم ترین ذمہ داریاں نبھائیں۔ حکومت نے واضح کیا کہ برطانوی فوجیوں کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں اور ان کے کردار کو کسی بھی صورت میں کم نہیں کیا جا سکتا۔

سیاسی ردعمل

حزب اختلاف کی جانب سے بھی ٹرمپ کے بیان پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ لیبر پارٹی کے رہنما کیر سٹارمر کے ترجمان نے بھی امریکی صدر کے دعوے کو "غلط” قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانوی فوجیوں نے افغانستان میں جو قربانیاں دی ہیں، وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ محاذ جنگ پر موجود تھے۔ ترجمان نے کہا کہ ٹرمپ کا بیان ان فوجی خاندانوں کی توہین ہے جنہوں نے اپنے پیاروں کو اس تنازعے میں کھویا ہے۔

برطانوی سیاست دانوں نے متفقہ طور پر امریکی صدر کے اس بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ وہ حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے بیانات میں احتیاط برتیں۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

پاکستان

مزید خبریں