امریکی ٹی وی کے معروف میزبان اسٹیفن کولبرٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ سی بی ایس نیٹ ورک نے ایک ڈیموکریٹ سیاست دان کا انٹرویو امریکی نشریاتی ادارے کے نگران ادارے (ایف سی سی) کے خدشات کے پیش نظر نشر ہونے سے روک دیا۔ تاہم، سی بی ایس نے انٹرویو روکنے کی تردید کی ہے، لیکن یہ تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے نشریاتی قواعد کی خلاف ورزی کے ممکنہ نتائج سے خبردار کیا تھا۔
تفصیلات
اسٹیفن کولبرٹ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ نیٹ ورک نے انہیں ایک ٹیکساس کے ڈیموکریٹ کے ساتھ کیے گئے انٹرویو کو نشر کرنے سے منع کیا تھا۔ ان کے مطابق، سی بی ایس انتظامیہ کو خدشہ تھا کہ یہ انٹرویو ایف سی سی کے قواعد کی خلاف ورزی کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں نیٹ ورک کو جرمانے یا دیگر قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کولبرٹ نے اس فیصلے پر اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ آزادی اظہار رائے پر قدغن لگانے کے مترادف ہے۔
سی بی ایس کا مؤقف
دوسری جانب، سی بی ایس نیٹ ورک نے اسٹیفن کولبرٹ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ انہوں نے انٹرویو کو نشر ہونے سے روکا تھا۔ نیٹ ورک کے ترجمان نے وضاحت کی کہ انہوں نے صرف میزبان اور پروڈکشن ٹیم کو امریکی نشریاتی قوانین کی حساسیت اور کسی بھی ممکنہ خلاف ورزی کے نتائج سے آگاہ کیا تھا۔ ترجمان کے مطابق، سی بی ایس اپنے تمام پروگراموں میں قانونی اور اخلاقی معیارات کی پاسداری کو یقینی بناتا ہے اور اس معاملے میں بھی صرف احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی تھیں۔ نیٹ ورک نے زور دیا کہ ان کا مقصد کسی بھی سیاسی جماعت یا شخصیت کو سنسر کرنا نہیں تھا، بلکہ صرف قانونی تقاضوں کو پورا کرنا تھا۔

