میلبورن: ہسپانوی ٹینس اسٹار کارلوس الکاراز نے آسٹریلین اوپن کے سیمی فائنل میں الیگزینڈر زیویریف کے خلاف اپنے شاندار مقابلے کے دوران طبی وقفہ (میڈیکل ٹائم آؤٹ) لینے پر قواعد توڑنے کے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ یہ وہ اقدام تھا جس پر ان کے حریف زیویریف نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔
طبی وقفہ پر تنازعہ
الکاراز نے اپنے کیریئر کی سب سے جرات مندانہ فتوحات میں سے ایک حاصل کی، لیکن اس کے فوراً بعد انہیں طبی علاج کے لیے قواعد کو مبینہ طور پر توڑنے کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ الکاراز نے واضح کیا ہے کہ انہوں نے طبی وقفہ لینے کے دوران کسی بھی ضابطے کی خلاف ورزی نہیں کی اور ان کا یہ اقدام مکمل طور پر جائز تھا۔
یہ تنازعہ اس وقت مزید بڑھ گیا جب آسٹریلین اوپن نے عین وقت پر ایک نیا اصول متعارف کرایا، جس کے تحت کارلوس الکاراز کو ٹورنامنٹ کے دوران صحت کی نگرانی کے ایک مخصوص آلے (health-tracking device) کا استعمال بند کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ اس اچانک تبدیلی نے کھلاڑیوں کے درمیان بے چینی پیدا کر دی تھی، تاہم الکاراز نے طبی وقفہ کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔
قواعد کی خلاف ورزی کی میڈیا رپورٹس
برطانوی میڈیا میں گردش کرنے والی رپورٹس، بشمول ‘دی مرر’ کی ایک رپورٹ کے مطابق، کارلوس الکاراز اور جانک سنر دونوں نے ایک ایسے اصول کی خلاف ورزی کی تھی جس کے نتیجے میں آسٹریلین اوپن کے چیمپئن کو جرمانہ (forfeit) ادا کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ یہ رپورٹ اگرچہ عمومی قواعد کی خلاف ورزی سے متعلق تھی، لیکن الکاراز نے خاص طور پر زیویریف کے خلاف سیمی فائنل میں لیے گئے طبی وقفہ کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کی۔
الکاراز کا موقف ہے کہ انہوں نے تمام ضابطوں کی مکمل پاسداری کی اور ان کی توجہ صرف کھیل پر مرکوز تھی۔ انہوں نے زور دیا کہ ایک پیشہ ور کھلاڑی کے طور پر، وہ ٹورنامنٹ کے مقرر کردہ تمام قواعد و ضوابط کا احترام کرتے ہیں اور ان کی جانب سے کوئی بھی اقدام قواعد کے دائرے سے باہر نہیں تھا۔

