آسٹریلوی حکام نے سڈنی کے ایک نوجوان، ڈارسی ٹننگ، کو جمعرات کو آسٹریلین فیڈرل پولیس (AFP) کے اہلکاروں نے گرفتار کر لیا اور اسے "بین الاقوامی طور پر محفوظ شخص” کے قتل کی دھمکی دینے کے الزام میں عدالت میں پیش کیا۔ اس کیس کا پس منظر اسرائیلی صدر اسحاق ہرگو کے ملک کے دورے کے دوران بڑھتے ہوئے تناؤ اور عوامی احتجاج سے منسلک ہے۔
پیش رفت
اسحاق ہرگو کی آسٹریلیا کے دورے کے پیش نظر ملک بھر میں "پیسفل اور پرامن” مظاہروں کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ متعدد شہروں میں ہزاروں افراد اسرائیل کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنے کے ارادے سے نکلنے والے ہیں۔ اسی دوران سوشل میڈیا پر متعدد آن لائن پیغامات سامنے آئے جن میں صدر ہرگو کے خلاف شدید دھمکیاں شامل تھیں۔ ان میں سے ایک پیغام کی شناخت ڈارسی ٹننگ کے ذریعے کی گئی۔
قانونی کارروائی
AFP کے مطابق، ٹننگ نے ایک آن لائن پلیٹ فارم پر واضح طور پر صدر ہرگو کے قتل کی دھمکی دی۔ اس کے خلاف "بین الاقوامی طور پر محفوظ شخص” کے قتل کی دھمکی کے تحت قانونی چارہ جوئی کی گئی ہے۔ اگر اس پر ثابت ہو گیا تو اسے زیادہ سے زیادہ دس سال کی قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عدالت نے اس کے خلاف "قابلِ سزا” جرم کے تحت مقدمہ درج کیا ہے اور اسے حراست میں رکھا گیا ہے۔
ملکی ردعمل اور احتجاج
آسٹریلوی حکام نے اس معاملے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قسم کی تشدد یا دھمکی کو برداشت نہیں کیا جائے گا، چاہے وہ کسی بھی ملک کے سربراہ کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے ساتھ ہی، امن پسند احتجاج کی حمایت بھی کی گئی ہے اور عوام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے اظہارِ رائے کو پرامن طریقے سے انجام دیں۔ اس دوران سڈنی اور دیگر بڑے شہروں میں پہلے سے ہی متعدد پرامن ریلیاں منعقد ہو رہی ہیں، جن میں شہری اسرائیلی صدر کے دورے کے سیاسی اور انسانی حقوق کے پہلوؤں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

